Tagi » Stan

#Frequency Harmonic Preview S1Ep12 via @stacyamiller85 @CWFrequency

There are only 2 episode remaining until the end of Frequency Season 1.

The episode dated  January 18 is titled „Harmonic.” Here is the synopsis from TV Guide: … 43 słowa więcej

TV Shows

’’سومنات کا دیو ہیکل بت، سلطان محمود غزنویؒ اور البیرونی کا علم ‘‘


​محمود غزنوی نے جب “سومنات” فتح کیا تو سلطان محمود غزنوی سومنات کے سب سے بڑے مندر کے اندر داخل ہوا جس میں ہندوؤں کا سب سے بڑا دیوتا بت کی صورت میں پوجا جاتا تھا سومنات کے اس بت کو معجزوں کا دیوتا کہا جاتا تھا اور اسے ناقابل شکست بھی تسلیم کیا گیا تھا۔سومنات کے مندر میں یہ سب سے بڑا دیوتا اور بت مندر میں معلق رہتا تھا۔ بت کو مندر کے بڑے کمرے میں اس انداز میں معلق دیکھ ہر شخص اس کی برتری تسلیم کرلیتا۔

اور جو برتری تسلیم نہ کرتا وہ بھی ایک بار سوچنے پر مجبور ہوجاتا تھا کہ یہ گرانڈیل وزنی بتکسی زنجیر، کسی نظر نہ آنے والے سہارے کے بغیر کس طرح فضا میں معلق ہے. صاف ظاہر ہے کہ اس کے فضا میں معلق ہونے کا کرشمہ دکھا کر اس کی عظمت اور ہیبت کو لوگوں کے دلوں میں بٹھایا گیا تھا۔بہرحال جب سومنات فتح ہوا تو محمود غزنوی مشہور مسلم دانشور البیرونی کے ساتھ بڑے بت کو دیکھنے مندر کے اندر آگیا

جب غزنوی مندر میں داخل ہوا تو اس بت کو فضا میں بغیر کسی سہارے کے معلق دیکھ کر چکرا گیا. محمود غزنوی نے حیران ہوکر البیرونی سے پوچھا۔۔۔!”یہ کیا ماجرا ہے؟ یہ بت بغیر کسی سہارے کے فضا میں کس طرح معلق ہے‘‘۔البیرونی نے چند لمحے سوچا پھر ادب سے بولا: سلطان معظم! اس مندر کے چھت کے اس طرف سے چند اینٹیں نکلوادیں۔سلطان کے حکم پر چند اینٹیں نکالی گئیں۔جب چھت سے البیرونی کی بتائ ہوئ جگہ سے کچھ اینٹیں نکالی گئیں تو سومنات کے فضا میں معلق بت یکدم ایک طرف جھک گیا… اور زمین سے قریب تر آگیا۔البیرونی نے ادب سے وضاحت کی۔۔۔! سلطان معظم! یہ ان ہندو پروہتوں اور پنڈتوں کی مکاری ہے. یہ بت لوہے کا بنوایا گیا ہے اور مندر کی چھت پر مخصوص جگہ بہت بڑے مقناطیس نصب کیے گئے ہیں. یہ مقناطیس لوہے کی بت کو اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں اور یوں یہ بت ساکت معلق رہتا ہے. چونکہ یہ بڑے بڑے مقناطیس مضبوطی سے نصب کیے گئے ہیں اپنی جگہ سے نہیں ہلتے اسی لئے یہ بت بھی فضا میں معلق ہے۔جب مندر کی چھت اکھاڑی گئ تو وہ بت بھی دھڑام سے زمین پر گر پڑا! پھر اینٹوں کا معاینہ کیا گیا تو البیرونی کا تجزیہ سوفیصد صحیح نکلا۔

Pak

friends, hot, stan, courteney cox, monica, too hot, summer with friends Gif For Fun

friends, hot, stan, courteney cox, monica, too hot, summer with friends Gif for Fun at your Time

Giphy

friends, hot, stan, courteney cox, monica, too hot, summer with friends Gif For Fun

friends, hot, stan, courteney cox, monica, too hot, summer with friends Gif for Fun at your Time

Giphy

Gen Zia ul Haq ke Kahane

General Muhammad Zia-Ul-Haq ka zikar aae to bohat se zakham taza ho jate hain. Dheere dheere yaad aane lagta hai ke hamare mulk mein lakhon clash an cops kahan se aai, naujawan nasal heroin ke kaise aadi hue, dehshat gardi kaise aam hoti gai aur nafrat ki is siyasat ka kaise aaghaz hua. 1 288 słów więcej

Pak

وزیر اعظم نے کوئی غلط بیانی نہیں کی تو پھر استثنی کیوں مانگ رہے ہیں: سپریم کورٹ

پاناما لیکس کی دستاویزات سے متعلق سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بینچ نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم نے کوئی غلط بیانی نہیں کی تو پھر وہ اس بارے میں استثنی کیوں مانگ رہے ہیں۔

عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی تقریر کو محض ایک بیان کے طور پر نہیں لیا جاسکتا کیونکہ اُن کی تقریر ہی عدالتی کارروائی کی بنیاد ہے۔

پیر کے روز جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔

وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر ہم استنثی نہ بھی مانگیں تو پھر بھی عدالت کو قانون کے مطابق ہی فیصلہ کرنا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 66 پارلیمنٹ میں کی گئی کارروائی کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور اسے عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ اُنھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں محض ججز کے رویے کو زیر بحث نہیں لایا جاسکتا۔

مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ محض پارلیمنٹ میں کی گئی تقاریر پر کسی شخص کو نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔

بینبچ میں موجود جسٹس اعجاز الا احسن نے وزیر اعظم کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا وہ میاں نواز شریف کی تقریر کی تردید کر رہے ہیں؟

جس پر مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ وہ اس کی تردید تو نہیں کر رہے البتہ عدالت کو اس معاملے میں آئین کے آرٹیکل 66 کو سامنے رکھنا ہوگا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پہلے تو اُن کے موکل نے کہا تھا کہ وہ اس بارے میں کوئی استثنی نہیں لیں گے اور اب آپ استثنی کی بات کرر ہے ہیں۔ جس پر وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر استثنی نہ لینے کی بات بھی کریں تو پھر بھی عدالت کو آئین کو دیکھنا ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ استثنی پارلیمنٹ کو حاصل ہے اور وہی اس کو ختم کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا پارلیمنٹ میں بولے گئے جھوٹ پر آئین میں نااہلی سے متعلق واضح کیے گئے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا جس پر وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ انڈین سپریم کورٹ میں ایسے فیصلے موجود ہیں جن پر اس بارے میں قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔

جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ کیا پارلیمنٹ میں غلط بیانی کرنے پر بھی استحقاق کا معاملہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔

مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اُن کے موکل نے کوئی غلط بیانی نہیں کی اور اگر کی بھی ہے تو پھر بھی وزیر اعظم کو آئین کے تحت استثنی حاصل ہے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے وزیر اعظم کی تقاریر کو بنیاد بناتے ہوئے اُن کی نااہلی کا معاملہ نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ تقاریر ضمنی مواد اور دستاویزات ہیں اور عدالت نے فیصلہ شواہد کی بنا پر کرنا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ان تقاریر سے محض معاملے کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ان درخواستوں کی سماعت منگل کے روز پھر ہوگی۔

Pak

سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ علیہ

سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ علیہ

نجم الدین ایوب قوم کے اعتبار سے کُرد اورعماد الدین زنگی کی فوج میں سپہ سالاری کا عہدہ رکھتا تھا،نجم الدین ایوب کے بیٹے صلاح الدین پر عماد الدین زنگی بہت مہربان تھا اوراُس نے صؒلاح الدین کی تعلیم وتربیت کا انتظام اپنے اہتمام سے کیا تھا،عماد الدین زنگی کی وفات کے بعد سلطان نورالدین زنگی نے نجم الدین ایوب کو دمشق کا قلعہ دار اورکوتوال مقرر کرکے صلاح الدین اُس کے بیٹے کو بھی اس خدمت میں باپ کا کمکی مقررکیا تھا،نجم الدین ایوب کی وفات کے بعد نور الدین زنگی نے اُس کے بھائی شیرہ کو اپنی فوج کا سپہ سالار بنایا اورصلاح الدین کو دمشق کا قلعہ دار رکھا،جب مصر کی جانب عاضد عبیدی کی درخواست پر فوج بھیجی گئی تو شیر کوہ کے ساتھ نور الدین نے اُس کے بھتیجے صلاح الدین کو بھی بھیجا،جس کا مفصل تذکرہ اوپر کسی باپ میں آچکا ہے،۵۶۷ھ صلاح الدین بن نجم الدین ایوب عاضد عبیدی کے بعد مصر کا بادشاہ بن گیا ۵۶۹ء میں جب سلطان نور الدین زنگی کا انتقال ہوا تو یہاں ارکان سلطنت میں تخت نشینی کے متعلق اختلاف ہوا،صلاح الدین نے مصر سے دمشق میں آکر سلطان نور الدین کے بیٹے ملک صالح کو تخت نشین کیا، اوراسی تاریخ سے شام کی سلطنت بھی سلطان صلاح الدین کے زیر اثر اور زیر اقتدار آگئی، اسی سال یمن اورحجاز میں بھی اُس کی حکومت قائم ہوئی۔
یہ زمانہ عالمِ اسلام کے لئے بہت نازک تھا،یورپ کے عیسائیوں نے متفقہ طاقت سے شام و مصر پر حملہ آوری کی،اس حملہ آوری کی زد پر صلاح الدین ہی پہاڑ بن کر ڈٹ گیا تھا،دوسری طرف ملاحدہ الموت یعنی فدائیوں نے جو چُھپ کر حملہ کرتے اور مسلمان امرا کو قتل کرنا تو اب جانتے تھے،ایک تہلکۂ عظیم برپا کررکھا تھا،ان فدائیوں سے لوگ بہت خائف و ترساں تھے،ان ظالموں نے سلطان صلاح الدین کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی، مگر وہ خدا کے فضل وکرم سے بچ گئے۔
آخر شام کے تمام سرداروں نے مل کر صلاح الدین کو ملکِ شام کا باقاعدہ بادشاہ تسلیم کیا اور سلطان صلاح الدین نے بیت المقدس کو عیسائیوں کے قبضے سے نکالنے کی کوشش شروع کی ۵۸۳ھ میں سلطان صلاح الدین نے ایک جنگ عظیمکے بعد بیت المقدس کے عیسائی بادشاہ کو میدانِ جنگ میں گرفتار کرلیا اور پھر اُس سے یہ اقرار لے کر کہ وہ سلطان کے مقابلے میں نہ آئے گا چھوڑدیا، اس کے بعد عکہ پر قبضہ کیا اور ۵۸۸ھ میں بیت المقدس کو فتح کرلیا ۴۹۰ھ سے ۵۸۸ھ تک یعنی ۹۸ سال کے قریب بیت المقدس عیسائیوں کے قبضے میں رہا،عیسائیوں نے جب بیت المقدس کو مسلمانوں سے فتح کیا تھا تو مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہادی تھیں،لیکن سلطان صلاح الدین ایوبی نے جب اس مقدس شہر کو عیسائیوں سے فتح کیا تو کسی عیسائی باشندے کوکوئی نقصان نہیں پہنچایا،بیت المقدس کی فتح کا حال سُن کر تمام برّا عظم یورپ میں ایک حشر برپا ہوگیا، اورگھر گھر کہرام مچ گیا؛چنانچہ فلپ شہنشاہ فرانس،رچرڈشیرول بادشاہ انگلستان ،فریڈرک شہنشاہ جرمنی اوربہت سے چھوٹے چھوٹے بادشاہ،نواب اوراُمرالشکر عظیم لے کر متفقہ طور پر تمام برّاعظم ایشیا کو فتح کرکے اسلام کا نام ونشان مٹانے کے ارادے سے حملہ آور ہوئے،عیسائیافواج جرّار کا یہ سمندر اس طرح متلاطم ہوا اوراس شان وشوکت کے ساتھ ملک شام کی طرف بڑھا کہ بظاہر برا عظم ایشیا کی خیر نظر نہیں آتی تھی،مگر حیرت ہوتی ہے کہ سلطان صلاح الدین نے چار سال تک کئی سو لڑائیاں لڑکر عیسائیوں کے اس بے پایاں لشکر کو خاک و خون میں ملایا اور اپنے سامنے سے بھگایا مگر بیت المقدس کی دیواروں تک نہین پہنچنے دیا،آخر ناکام و نامراد یہ عیسائی سلاطین نہایت ذلّت کے ساتھ واپس ہوئے اورسلطان صلاح الدین نے عیسائیوں کو یہ رعایت عطا کی کہ وہ اگر بیت المقدس میں محض زیارت کے لئے آئیں تو عیسائیوں کو کسی قسم کی روک ٹوک نہ کی جائے گی۔
ان مذکورہ لڑائیوں میں صلاح الدین نے جس شرافت وانسانیت کا برتاؤ کیا اور جس شجاعت وجفاکشی کا اُس سے اظہا ہوا،اُس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج تک بھی تمام یورپ سلطان صلاح الدین کو عزت وعظمت کے ساتھ یاد کرتا اوراُس کے نام کو شجاعت وشرافت کا مترادف سمجھتا ہے؛حالانکہ سلطان صلاح الدین ہی نے تمام براعظم یورپ کو اُس کے مقصد وحید میں ناکام و نامراد رکھ کر واپس بھگایا تھا ۵۸۹ھ میں سلطان صلاح الدین نے وفات پائی اوراپنے تقوے اورزہد وورع کے سبب اولیاء اللہ میں اُس کا شمار ہوا۔
صلاح الدین ایوبی کی وفات کے بعد اُس کا بیٹا عثمان المقلب بہ ملک العزیز تخت نشین ہوا اُس نے چھ سال نہایت نیک نامی کے ساتھ حکومت کی ۵۹۵ھ میں جب فوت ہوا تو اُس کی جگہ اُس کا بیٹا ملک منصور تختنشین ہوا، مگر ایک سال کے بعد معزول ہوا تو اُس کے بعد ملک عادل سلطان صلاح الدین کا بھائی تخت نشین ہوا، یہ بڑا نیک اورقابلِ ستائش سلطان تھا،اُس نے ۶۱۵ ھ میں وفات پائی،اُس کی جگہ اُس کا بیٹا ملک کامل تخت نشین ہوا، یہ بھی بہت نیک نام بادشاہ تھا ۶۳۵ھمیں اُس کا انتقال ہوا تو اُس کی جگہ اُس کا بیٹا ملک عادل ابوبکر تخت نشین ہوا دو برس کے بعد امرائے مصر نے اس کو محبوس کرکے اُس کے بھائی ملک صالح بن ملک کو مصر کے تخت پر بٹھایا اس نے دس سال حکومت کی،آخر عیسائیوں کی لڑائیمیں شہید ہوا، اس کے بعد ملک معظم توران شاہ بن ملک صلاح ۶۴۷ھ میں تخت نشین ہوا،مگر چند ہی مہینے کی حکومت کے بعد مقتول ہوا، اس کے بعد ملکہ شجرۃ الدر ۶۴۷ھ میں تخت نشین ہوئی اورچند مہینے کی حکومت کے بعد وہ بھی تختِ سلطنت سے جُدا ہوگئی اس کے بعد ملک اشرف ۶۴۷ھ میں تخت نشین ہوا، ۶۵۲ھ میں اُس کو اسی خاندان کے غلاموں نے معزول کیا اورخاندان ایوبیہ کُردیہ کا خاتمہ ہوا۔
سلطان صلاح الدین کا تقریباً تمام عہدِ حکومت ملکِ شام اورشہر دمشق یا میدانِ جنگ میں گذرا، لیکن اُس کے جانشینوں نے مصر ہی کو اپنا دار السلطنت بنایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شام کی حکومت اُن کے ضعیف ہوجانے کے بعد دولتِ ایوبیہ سے خارج ہوگئی اورآخر میں وہ صرف ملک مصر ہی پر قابض رہے، اس سلطنت کے آخری فرماں رواؤں کی حکمت عملی یہ تھی کہ خارجیہ اور ارمینیا کے غلاموں کو خرید خرید کر ان غلاموں کی ایک زبردست فوج رکھی جائے تاکہ کسی سردار کو بغاوت وسرکشی کی جرأت نہ ہوسکے اوران شاہی غلاموں کی فوج سے ہر سرکش کی سرکوبی کی جاسکے،مگر رفتہ رفتہ ان غلاموں نے جن کو مملوک کہاجاتا تھا،اس قدر قوت حاصل کرلی کہ وہی سلطنتِ مصر کے مالک ہوگئے۔

Pak